حضرت شیخ محمد یونس جونپوری رحمہ اللہ

0

 حضرت شیخ محمد یونس جونپوری رحمہ اللہ

یہ داستان ہے ایک کسان کے گھر میں پیدا ہونے والے اس دیوانے کی، جس کے سینے میں عشقِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا ایسا دریا موج زَن تھا، کہ اس نے اپنی پوری زندگی احادیثِ رسول کی خدمت پر نچھاور کردی۔


دنیا کے شور اور ہنگاموں سے دور ایک چھوٹے سے کمرے میں بیٹھا یہ شخص حدیث کی کتابوں میں ایسا گُم ہو جاتا تھا جیسے کوئی عاشق اپنے محبوب کے چہرے کے خد و خال کا بغور معاینہ کر رہا ہو، اس کے دل کی ہر دھڑکن میں قالَ الرسول کی صدا بستی تھی۔


جی ہاں! ہم بات کر رہے ہیں، امیرُ المؤمِنِین فِی الحدیث حضرت شیخ محمد یونس جَونپوری رحمہ اللہ کی۔



حضرت شیخ محمد یونس کی پیدائش 25 رجب 1355 ہجری، یعنی 2 اکتوبر 1937 کو چَوکِیہ گُرِینِی، ضلع جَونپور میں ہوئی۔

آپ کے والد، شیخ شبیر احمد، نہایت مِحْنَتی اور دیندار انسان تھے۔

دودھ اور گھی کا کاروبار کرتے تھے، کھیتی باڑی میں بھی ماہر تھے،

اور اپنے بیٹے کو دینی تعلیم دلوانا چاہتے تھے۔

آپ پرائمری اسکول کے طالب علم تھے کہ ایک دن ہندی کی کتاب میں یہ جملہ پڑھ رہے تھے:

"طوطا رام رام کہتا ہے۔"

والد نے یہ جملہ سنا تو خفا ہوئے اور کہا:

"کتاب رکھ دو، بہت پڑھ لیا۔"

چنانچہ اسی وقت آپ کی عصری تعلیم موقوف ہوگئی۔


آپ کی باضابطہ تعلیم کا آغاز مدرسہ ضیاء العلوم مائی کلاں سے ہوا، وہاں آپ نے مولانا عبد الحلیم جونپوری اور مولانا ضیاء الحق صاحب سے فارسی اور عربی کی ثانوی کتابیں پڑھیں۔ 

اس کے بعد مدرسہ مظاہر علوم سہارن پور میں داخلہ لیا، داخلہ کے وقت آپ کے دو سادہ کپڑے اور پانچ روپے پیسے تھے، مظاہر علوم میں آپ نے مولانا اسعد اللہ رامپوری اور شیخ زکریا کاندھلوی کے سایے میں تعلیم حاصل کی۔

بخاری شریف آپ نے شیخ زکریا رحمہ اللہ سے پڑھی، فراغت کے بعد آپ کی علمی صلاحیتوں کی بنا پر سن 1962 کو تیس روپے کے مشاہرے پر آپ کو مظاہر علوم کا معین مدرس مقرر کیا گیا۔

سن 1967 کو سنن ابوداؤد اور نسائی شریف کا درس آپ سے متعلق ہوا۔ آپ نے صحاح ستہ کی بیشتر کتابوں کا درس دیا ہے۔

سن 1969میں شیخ زکریا نے امراض اور مدینہ ہجرت کر جانے کی بنا پر بخاری شریف کی تدریس کی ذمہ داری آپ نے شیخ یونس جونپوری کے سپرد کر دی۔اس طرح آپ صرف بتیس سال کی عمر میں ہی مظاہر علوم سہارنپور کے شیخ الحدیث بن گئے۔ اور اڑتالیس سال تک آپ اس عظیم منصب پر فائز رہے۔

آپ نے نصف صدی سے زائد احادیث کا درس دیا ہے، دنیا بھر میں آپ کے ہزاروں شاگرد ہیں جو دینی و علمی خدمات انجام دے رہے ہیں۔

آپ فنِ حدیث کے ساتھ ساتھ دیگر علوم نقلیہ و عقلیہ میں کامل دسترس رکھتے تھے، عرب سے کوئی مہمان آپ کے درس میں وارد ہوتا تو آپ بے تکلف عربی میں درس دینا شروع کر دیتے تھے۔

علمِ حدیث میں آپ کی شان ہی الگ تھی، فن اسماء الرجال میں آپ کا مقام بہت بلند تھا، ایک موقع پر فرمایا: میں نے حافظ ابن حجر رحمہ اللہ کی سو غلطیوں کی نشان دہی کی ہے، اس کے باوجود میں اس فن میں ان کا لوہا مانتا ہوں۔

آپ اکثر بیمار رہا کرتے تھے، اسی وجہ سے آپ نے نکاح بھی نہیں فرمایا تھا، آپ اپنی ہستی مکمل طور پر کتابوں میں گُم کر چکے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ آپ کے قلم سے مُعتَدْ بِہِ تعداد میں کتابیں شائع نہ ہو سکیں، تاہم حضرت شیخ زکریا رحمہ اللہ اور  مولانا اسعد اللہ رامپوری کے پاس آنے والے بہت سے علمی سوالات کے جوابات آپ نے تحریر فرمائے ہیں۔

جن کو بعد میں آپ کے شاگردوں کے اِصرار پر اَلْیَواقِیتُ الْغَالِیَہ کے نام سے کئی جلدوں میں شائع کیا گیا، اِس کے علاوہ دیگر موضوعات پر چھوٹے چھوٹے تقریبا پندرہ سَولَہ رسالے شائع ہو چکے ہیں۔

آپ کا ایک تحقیقی کارنامہ بخاری شریف کا حاشِیہ اور اِس کی شَرَح ہے جِس کو مولانا اَیوب سُورتی نے تین جلدوں میں نِبْرَاسُ السارِیْ کے نام سے شائع کیا ہے۔

آپ کی وفات 11 جولائی سن 2017 کو ہوئی، آپ کی نماز جنازہ مولانا محمد طلحہ کاندھلوی نے پڑھائی، اور آپ کو سہارن پور کے شاہ کمال قبرستان میں سپردِ خاک کیا گیا۔


آپ کے جنازے میں بےاِنتہا ہجوم تھا، تقریبا چار سے پانچ لاکھ افراد نے شرکت کی تھی، کہا جاتا ہے یہ سہارن پور کی تاریخ کا سب سے بڑا جنازہ تھا۔

اللہ تعالیٰ آپ کی قبر پر کروڑوں رحمتیں نازل فرمائے۔



ایک تبصرہ شائع کریں

0تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں (0)