جنت کے حسین مناظر
تصور کیجیے، وہ لمحہ جب اہلِ ایمان اپنے رب کی رضا کے ساتھ جنت میں داخل ہوں گے۔
فرشتے ان کا استقبال کریں گے، دروازے کھولے جائیں گے، اور سلامتی کی صدائیں سنائی دیں گی: "سَلَامٌ عَلَيْكُمْ طِبْتُمْ فَادْخُلُوهَا خَالِدِينَ"(سلام ہو تم پر، تم پاک صاف ہو، پس داخل ہو جاؤ اس میں ہمیشہ کے لیے۔)
جنت میں سب سے پہلا مرحلہ ایک روح افزا اور عجیب و غریب بازار کا ہوگا، جو کسی دنیوی بازار سے مشابہ نہ ہوگا۔
نہ وہاں خرید و فروخت ہوگی، نہ لین دین، صرف عطا ہوگی اور رضا۔ ہر جنتی کو حسبِ خواہش لباس، خوشبو، اور زیبائش کی چیزیں عطا کی جائیں گی۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "فِي الْجَنَّةِ سُوقٌ يَأْتُونَهَا كُلَّ جُمُعَةٍ، فَتَهُبُّ رِيحُ الشَّمَالِ، فَتَحْثُو فِي وُجُوهِهِمْ وَثِيَابِهِمْ، فَيَزْدَادُونَ حُسْنًا وَجَمَالًا" (جنت میں ایک بازار ہے جہاں جنتی ہر جمعہ کو جائیں گے، وہاں سے شمال کی ہوا چلے گی جو ان کے چہروں اور لباسوں پر پڑے گی، اور وہ پہلے سے زیادہ خوبصورت ہو جائیں گے۔) [صحیح مسلم]
پھر اعلان ہوگا کہ آج ایک عظیم الشان روحانی محفل منعقد ہوگی۔ جنتی اس نورانی مجلس میں جمع ہوں گے، دلوں میں شوق کی تڑپ ہوگی، اور فضائیں مشک و عنبر سے مہک رہی ہوں گی۔
اسی دوران حورانِ جنت نغمہ سرائی کریں گی، جو اپنی سحر انگیز آوازوں میں ترنم سے گائیں گی: "نَحْنُ الْخَالِدَاتُ فَلَا نَمُوتُ، وَنَحْنُ النَّاعِمَاتُ فَلَا نَبْأَسُ، وَنَحْنُ الْمُقِيمَاتُ فَلَا نَظْعَلُ، وَنَحْنُ الرَّاضِيَاتُ فَلَا نَسْخَطُ، طُوبَى لِمَنْ كَانَ لَنَا وَكُنَّا لَهُ" (ہم ہمیشہ رہنے والی ہیں، کبھی نہ مریں گی۔ ہم نعمتوں میں پلنے والی ہیں، ہم پر کوئی رنج نہیں۔ ہم جنت میں مقیم ہیں، کبھی وہاں سے نکالی نہ جائیں گی۔ ہم ہمیشہ خوش ہیں، کبھی ناراض نہ ہوں گی۔ خوش نصیب وہ ہے جو ہمارا ہے اور ہم اس کی ہیں۔)
جب یہ نغمہ فضا میں گونجے گا، اہلِ جنت وجد میں آ جائیں گے۔
پھر اللہ تعالیٰ اپنے بندوں سے سوال فرمائے گا: "يَا عِبَادِي! كَيْفَ وَجَدْتُّمُ الْأَنْسَ؟" (اے میرے بندو! تم نے یہ محفل کیسی پائی؟)
وہ عرض کریں گے: "رَبَّنَا! مَا سَمِعْنَا أَطْيَبَ مِنْ هَذَا" (اے ہمارے رب! اس سے بڑھ کر ہم نے کچھ سنا ہی نہیں!)
رب تعالیٰ فرمائے گا: "أَفَلَا أَزِيدُكُمْ؟" (کیا میں تمہیں اس سے بھی بہتر عطا نہ کروں؟)
وہ عرض کریں گے: "بَلَى يَا رَبِّ!"
(کیوں نہیں، اے ہمارے رب!)
تب حضرت داود علیہ السلام تشریف لائیں گے، جنہیں اللہ تعالیٰ نے خوش آوازی اور وجد انگیز ترنم عطا کیا تھا۔
جب وہ کلامِ الٰہی کی تلاوت کریں گے، تو پہاڑ، پرندے، اشجار سب ان کے ساتھ تسبیح میں شریک ہو جائیں گے:"يَا جِبَالُ أَوِّبِي مَعَهُ وَالطَّيْرَ" (اے پہاڑو! داود کے ساتھ تسبیح کرو، اور پرندوں کو بھی۔) { سبأ: 10]
اہلِ جنت مدہوش ہو جائیں گے، سراپا گوش بنے ہوئے ہوں گے۔
اللہ تعالیٰ پھر پوچھے گا:
"كَيْفَ وَجَدْتُّم؟" (کیسا پایا؟)
سب عرض کریں گے: "رَبَّنَا! هَذَا أَطْيَبُ وَأَجْمَلُ!" (اے رب! یہ تو اور زیادہ عمدہ اور حسین تھا!)
پھر نوبت آئے گی امام الانبیاء، فخرِ موجودات، محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کی۔ جب آپ کی زبانِ اطہر سے قرآن کی تلاوت جنت میں گونجے گی تو اہلِ جنت وہ کیف و سرور پائیں گے جو ناقابلِ بیان ہوگا۔
یاد رہے، دنیا میں کفارِ قریش بھی آپ کی تلاوت سننے کے لیے چھپ چھپ کر آتے تھے:
"وَقَالَ الَّذِينَ كَفَرُوا لَا تَسْمَعُوا لِهَذَا الْقُرْآنِ وَالْغَوْا فِيهِ" (کافروں نے کہا: اس قرآن کو مت سنو اور اس میں شور مچاؤ۔)
[سورۃ فصلت: 26]
لیکن وہی کفار رات کی تاریکی میں چھپ چھپ کر قرآن سنتے تھے، آپ کی آوازِ مبارک کا جادو دلوں کو موہ لیتا تھا۔
اب جنت میں جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم تلاوت فرمائیں گے، تو اہلِ جنت بے خود ہو جائیں گے، اور دل پکار اٹھیں گے: "هَذَا هُوَ الْكَلَامُ الَّذِي غَيَّرَ الْقُلُوبَ فِي الدُّنْيَا، فَكَيْفَ لَا يُسْكِرُنَا فِي الْجَنَّةِ!" (یہ وہ کلام ہے جس نے دنیا میں دلوں کو بدل دیا، تو جنت میں ہمیں سرشار کیوں نہ کرے!)
پھر اس نور و نغمہ سے بھری مجلس میں وہ عظیم لمحہ آئے گا، جو تمام نعمتوں اور لذتوں سے برتر ہوگا۔
اللہ رب العالمین، خود تلاوت فرمائے گا۔ "قَدْ سَمِعْنَا قِرَاءَةَ دَاوُدَ وَمُحَمَّدٍ، فَهَلْ تَشْتَهُونَ أَنْ تَسْمَعُوا قِرَاءَتِي؟" (تم نے داود اور محمد کی قراءت سنی، کیا اب میری قراءت بھی سننا چاہتے ہو؟)
جب ربِ کائنات اپنی زبانِ قدرت سے قرآن کی تلاوت کرے گا، تو جنت ساکت ہو جائے گی،
فرشتے، حوریں، درخت، نہریں، سب دم سادھ لیں گے، اور اہلِ جنت بے خود ہو کر سنیں گے۔
"وَيَتَلَذَّذُونَ بِصَوْتِ الرَّحْمَٰنِ كَمَا لَمْ يَتَلَذَّذُوا بِشَيْءٍ قَطُّ" (اور وہ رحمن کی آواز سے ایسی لذت پائیں گے جو انہوں نے کبھی کسی چیز سے نہ پائی ہوگی۔)
وہ عرض کریں گے:"رَبَّنَا! مَا بَعْدَ هَذَا مِنْ نَعِيمٍ!" (اے ہمارے رب! اس کے بعد کسی اور نعمت کی کوئی گنجائش ہی نہیں ہے۔
تحریر: ابوخالد بن ناظرالدین

